Monday, 9 September 2013

accccccccc

Leave a Comment


یہ واقعہ چیتل دروگ کے جنگل کا ہے جو شیروں کی بہتات کی وجہ سے مشہور تھا۔ یہ جنگل میسور کی ریاست میں شموگا ڈسٹرکٹ کے مشرق میں واقع تھا۔ چیتل دروگ قصبے سے چند میل دور سیمپیگھہالی کا گاؤں تھا جو گھنے جنگلوں میں گھرا تھا۔ اس گاؤں سے ایک کچا راستہ بدھالی کے گاؤں کو جاتا تھا۔ اسی راستے  پر گاؤں سے تقریباً چار میل دور جنگل کے عین درمیان ایک پرانے مندر کے کھنڈرات تھے جس میں ایک بہت گہرا کنواں بھی تھا۔ ان کھنڈرات کے بارے میں مشہور تھا کہ یہاں جنات اور روحوں کا بسیرا تھا۔ دن کے وقت کوئی ان کھنڈروں کے قریب نہیں آتا تھا جبکہ رات کو تو اس علاقے میں کوئی گھسنے کی بھی ہمت نہ کرتا تھا۔



چونکہ یہاں کوئی انسان نہیں آتا تھا اس لیے ان کھنڈرات میں اکثر ایک دو ریچھ پائے جاتے تھے جن کے آس پاس ہی ایک آدھ چیتا بھی گھر بنا لیتا تھا۔ کبھی کبھار کوئی گزرتا ہوا ٹائیگر بھی ایک دو ہفتے کو ان کھنڈرات میں آن بستا۔ اور جب ایسا ہوتا تو ریچھ اور چیتے کچھ عرصہ کے لیے مناسب فاصلے پر چلے جاتے تاکہ جنگل کے بادشاہ سے محفوظ رہ سکیں اور ٹائیگر کے آگے چلے جانے کے بعد واپس آ جاتے۔

کچھ عرصہ قبل سیمپیگھیہالی کا ایک رہائشی غائب ہو گیا۔ ایک ماہ کے قریب گزرا کہ بدھالی کا بھی ایک رہنے والا ایسے ہی غائب ہو گیا۔ کسی کو معلوم نہیں تھا کہ ان کے ساتھ کیا ہوا اور نہ ہی کسی کی کچھ باقیات کبھی مل سکیں۔ چھوٹے سے گاؤں میں کسی بھی انسان کو یوں غائب ہو جانا کافی بڑی خبر تھی اور لوگوں نے یہی خیال ظاہر کیا کہ ان کے ساتھ کوئی حادثہ ہو گیا۔

انہی دنوں ایک غیر معمولی طور پر بڑا ٹائیگر اس علاقے میں دیکھا جانے لگا جو کہ دیہاتیوں کے مطابق دوسرے شیروں سے کہیں زیادہ غصیل تھا اور بڑی ہی دیدہ دلیری سے عین دن میں ان کے ریوڑوں پر حملہ کر کے مویشی مار کر اٹھا لے جاتا۔ لوگ یہ مانتے تھے کہ اس شیر نے بھی اپنا گھر اسی پرانے مندر کے کھنڈروں میں بنایا ہے اور یہ شکار مار کر انہی کھنڈرات میں لے جاتا ہے۔ اس بات کو تقویت اس چیز سے ملی کہ مندر سے آنے والے راستوں پر اس شیر کے پیروں کے نشانات دیکھے جاتے تھے جہاں یہ روزانہ مندر کی جانب سے شام کو آتا تھا اور صبح کے وقت اسی راستے سے واپس چلا جاتا تھا۔

سیمپیگھیہالی ان دنوں میری انتہائی پسندیدہ شکارگاہ ہوا کرتا تھا اور گاؤں میں کافی لوگ مجھ سے واقف تھے جن میں سے اکثریت نے مجھے خط لکھ کر جلدی آنے کی درخواست کی تاکہ ان کے مویشیوں کو بچایا جا سکے۔ میں جب چند دن بعد اس گاؤں میں پہنچا تو میں نے دونوں گمشدہ انسانوں کی آخری دن کی ایکٹویٹیز جاننے کی پوری کوشش کی لیکن ان دونوں کے بارے میں کچھ زیادہ معلوم نہ ہو سکا۔ اس معاملے میں گاؤں کی ایک لڑکی بھی شامل ہو گئی تھی۔ یہ سننے میں آیا تھا کہ ان دونوں انسانوں کے اس لڑکی سے تعلقات تھے جو کہ غریب تھی۔ جبکہ یہ دونوں لوگ گاؤں کے حساب سے امیر گھروں کے تھے اور ان کی اپنی زمینیں تھیں۔ لیکن جو بات حیران کن تھی کہ یہ دونوں لوگ جب غائب ہوئے تو اپنے ساتھ کافی بڑی رقم لے کر جا رہے تھے جس کے بارے میں ان کے بیوی بچوں میں سے بھی کوئی نہیں جانتا تھا۔ یہ سب کچھ ان کے غائب ہونے کے بعد سامنے آیا۔

یہاں تک کوئی ایسا ثبوت نہیں تھا کہ ان لوگوں کی گمشدگی کو کسی بھی طرح ٹائیگر کے ساتھ جوڑا جا سکے۔ میں نے اپنے طور پر اس لڑکی سے بات چیت کی اور مجھے یہ احساس ہوا کہ یہ لڑکی جتنا بتا رہی ہے اس معاملے میں اس سے کہیں زیادہ جانتی ہے۔ میرے ذہن کے مطابق یہ لڑکی کسی بھی آدم خود شیر سے زیادہ خطرناک تھی اور اس سے کہیں زیادہ چالاک بھی۔ لیکن میں کوئی پولیس آفیسر نہیں تھا اور میری دلچسپی لڑکی سے کہیں زیادہ اس غیر معمولی سائز کے ٹائیگر میں تھی۔ اس لیے میں نے لنچ کے فوراً بعد اس پرانے کھنڈر میں جانے کا فیصلہ کیا اور سوچا کہ وہاں کوئی مناسب جگہ ڈھونڈ کر رات وہاں گزاروں گا اور کوشش کروں گا ٹائیگر سے آمنا سامنا ہو سکے۔

ٹائیگر کے بارے میں یہ شک تھا کہ وہ آدم خور ہو سکتا ہے اور ممکن ہے ان دو افراد کو اسی نے کھایا ہو۔ لیکن یہ صرف ایک شک ہی تھا اور میرے ذہن میں یہ کنفیوژن تھا کہ میں شیر کو دیکھتے ہی گولی مار دوں یا اس کی حرکات سے اندازہ لگانے کی کوشش کروں۔ 
If You Enjoyed This, Take 5 Seconds To Share It

0 comments:

Post a Comment